سری نگر15؍ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسیز)جموں وکشمیر میں دہشت گردوں کے خلاف فوج کا آپریشن آل آؤٹ ،گزشتہ دو دنوں سے جاری ہے جس میں حفاظتی دستوں نے گھاٹی میں13؍دہشت گردوں کو ڈھیر کردیا ہے جب کہ آج جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے چیوگام میں ہونے والے ایک شبانہ مسلح تصادم میں حزب المجاہدین کے ایک اعلیٰ کمانڈر سمیت 5 جنگجو مارے گئے ۔ ریاستی پولیس نے جنگجوؤں کی ہلاکت کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے ۔ چیوگام میں مسلح تصادم کے مقام پر جنگجوؤں کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آنے والوں کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئیں۔ ان جھڑپوں میں متعدد احتجاجیوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ کچھ زخمی گولی اور چھرے لگنے سے زخمی ہوئے ہیں۔ انتظامیہ نے جنگجوؤں کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر جنوبی کشمیر کے کولگام اور اننت ناگ اضلاع میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات منقطع کروائی ہیں۔ اس کے علاوہ وادی بھر میں ریل خدمات کو معطل کیا گیا ہے ۔
ایک رپورٹ میں کشمیر زون پولیس کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) سوئم پرکاش پانی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ چیوگام کولگام میں پانچ جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا ہے ۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق علاقہ میں تلاشی آپریشن جاری ہے ۔ مقامی میڈیا کی ایک رپورٹ میں مہلوک جنگجوؤں کی شناخت حزب المجاہدین کمانڈر گلزار احمد پڈر ساکنہ پومبے کولگام، فیصل راتھر ساکنہ یامرچ کولگام، زاہد احمد میر ساکنہ اوکے کولگام، مسرور بٹ ساکنہ فتح پورہ اننت ناگ اور ظہور ساکنہ دمہال ہانجی پورہ کولگام کے بطور کی گئی ہے ۔ جموں وکشمیر پولیس کے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ پر کہا گیا ہے کہ لگام کے چیوگام میں مسلح تصادم جاری ہے ۔ پانچ جنگجو محصور ہیں۔ تین کو مبینہ طور پر ہلاک کیا جاچکا ہے ۔ بارہمولہ اور قاضی گنڈ کے درمیان ریل خدمات کو معطل کیا گیا ہے ۔ پولیس اور سکیورٹی فورس اہلکار آپریشن میں مصروف ہیں۔ان جھڑپوں میں ایک شہری بھی ماراگیا ہے اور ایک درجن سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ ہفتہ کو ہوئے تصادم کے بعد فوج کی طرف سے یہ بیان جاری ہوا ہے کہ گھاٹی میں گزشتہ دنوں دہشت گردوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ برگیڈیر سچن ملک نے بتایا کہ مقامی دہشت گردوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا ہے صرف جنوبی کشمیرمیں اس وقت 200؍دہشت گرد موجود ہیں جن میں سے 15؍فیصد غیر ملکی ہیں۔ یہ مہم ہم اس لئے چلارہے ہیں تاکہ سرگرم دہشت گردوں کا قلع قمع کیا جاسکے اور نئے دہشت گردوں کی بھرتی کی کوششوں میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں پر لگام لگائی جاسکے۔ ٹویٹر پر مزید کہا گیا ہے کہ یہ پولیس اور سکیورٹی فورسز کے لئے ایک بڑی کامیابی ہے ۔ مارے گئے جنگجوؤں کا تعلق حزب المجاہدین اور لشکر طیبہ سے تھا۔ ان میں سے بیشتر سلسلہ وار جنگجویانہ کارروائیوں بشمول دو بینک ملازمین اور متعدد پولیس اہلکاروں کی ہلاکت میں ملوث تھے ۔ وہ بینک ڈکیتیوں اور ہتھیار چھیننے کے واقعات میں بھی ملوث تھے۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ کولگام کے چیوگام میں جنگجوؤں کی موجودگی سے متعلق مصدقہ اطلاع ملنے پر فوج، جموں وکشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ اور سی آر پی ایف نے مذکورہ علاقہ میں گذشتہ رات وسیع پیمانے کا تلاشی آپریشن شروع کیا۔ انہوں نے بتایا کہ تلاشی آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے مشتبہ گھر کے نزدیک کچھ وارننگ شاٹس کئے جس پر جنگجوؤں نے سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کی۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ جنگجوؤں کی فائرنگ کے بعد طرفین کے مابین باضابطہ طور پر مسلح تصادم شروع ہوا۔ انہوں نے بتایا 'جنگجو مخالف آپریشن جاری ہے ۔ مارے گئے جنگجوؤں کی لاشیں برآمد کی جارہی ہیں'۔ ایک رپورٹ کے مطابق جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کے لئے ایک رہائشی مکان کو دھماکہ خیز مواد سے زمین بوس کردیا گیا۔دریں اثنا چیوگام کولگام میں ہوئے مسلح تصادم میں پانچ جنگجوؤں کی ہلاکت کے خلاف کولگام اور اننت ناگ اضلاع میں ہفتہ کو ہڑتال کی گئی۔ ہڑتال کے دوران دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔ بیشتر تعلیمی اداروں میں درس وتدریس کی خدمات معطل رہیں جبکہ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں معمول کا کام کاج جزوی طور پر متاثر رہا۔